چنتامنی:5 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پانی کی سربراہی میں کوتاہی کرنے والے گرام پنچایتی افسروں کے خلاف کارروائی کی جائیگی یہ وارنگ چکبالاپور ضلع سڈلگٹہ حلقہ کے رُکن اسمبلی ایم۔راجنانے دی ۔
آج چنتامنی کے تعلق پنچایتی ہال کے رُکن اسمبلی دفتر میں طلب کردہ سرکاری افسروں کے میٹنگ میں سرکاری افسروں کو لتاڑا اور کہا کہ سڈلگٹہ حلقہ کے چلکنر پور کے آس پاس قریوں میں پانی کی شدید قلت ان قریوں کو پانی سربراہی کرنے میں چند افسران اور تعلقہ پنچایتی کی ای۔او۔شرنیواس کوتاہی کرنے کے ساتھ ساتھ سیاست بھی کررہے ہیں سوچھ بھارت میشن کے تحت قریوں میں بیت الخلاء کی تعمیر ہونی تھی لیکن کئی قریوں میں بیت الخلاء تعمیر کرکہ دینے کیلئے فنڈ مرکزی حکومت سے ملنے کے باجود فنڈ کو گرام پنچایتی کے پی۔ڈی۔او ۔ضائع کررہے ہیں ۔
رُکن اسمبلی نے بیسکام افسروں کو لتاڑا اور کہا ٹرانسفارم تبدل کرنے بیسکام کے افسران کسانوں سے پانچ تا دس ہزار روپئے رشوت مانگ رہے ہیں اور قریوں کو ٹھیک طرح بجلی سپلائی نہیں کی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ سدرامیا صرف جھوٹے تقریر کرتے ہوئے ریاست کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ریاستی کانگریس حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جڑواں اضلاع میں چکبالاپور تعلق اور گوری بدنور تعلقہ ہی وزیر اعلیٰ کو نظر آتے ہیں بقیہ تعلقہ جات کووزیر اعلیٰ نے نظر نہیں آتے یہ دو ہی تعلقوں کو حکومت ترقیاتی کاموں کے لئے زیادہ فنڈ فراہم کررہی ہے چکبالاپور ضلع کے نقش میں وزیر اعلیٰ کو دوسرے تعلقہ جات نظر نہیں آرہے ہیں۔
راجنا نے کہا کہ افسرا ن کو چاہئے کہ وہ انتظامیہ اور تعلقہ کے ترقیاتی وتعمیراتی پروگراموں کو لیکر خاموش بیٹھنے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ اپنی تمام توجہ سرکاری پروگراموں میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کو معیاری بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں جب تک محکموں کے اعلیٰ افسران ترقیاتی پروگراموں کو لیکر لاپرواہ رہیں گے تب تک پروگراموں کو عوام تک پہنچانا ناممکن ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ سدلگٹہ کے عوام کے ساتھ پچھلے کئی سالوں سے رہ کر سماجی خدمت انجام دے رہاہوں اور مجھے حلقے کا ایم ایل اے منتخب کیا گیا ہے اسلئے عوام کے مسائل کے حل کیلئے ہر ہمیشہ میرے گھر کے درواز کھلے رہیں گے۔
اس موقع پر تحصیلدار موہن ضلع پنچایتی اے۔ای۔ای۔کمار،وینکٹ ریڈی کنچارہلی بینک کرشناریڈیوینکٹیش منجوناتھ ریڈی چندرہ شیکھرا روی۔اشوک ریڈی ینکٹ آدری سمیت کئی تعلقہ کے افسران وغیرہ موجود رہے۔